عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أُحُدٍ، فَرَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ، فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ، قَالَ بَعْضُهُمْ: نَقْتُلُهُمْ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا، فَنَزَلَتْ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88 "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن یزید کو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (جنگ کے لیے) احد کی جانب روانہ ہوئے۔ جو لوگ آپ کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ واپس آ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ ان کے بارے میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ بعض نے کہا: ہم انہیں قتل کر دیں اور بعض نے کہا: نہیں۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی: «فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ» ”تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تم دو گروہ بن گئے ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7031]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة