بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 7021 — باب: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جو تہمت ہوئی تھی اس کا بیان۔
کتب صحیح مسلم توبہ کا بیان باب: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جو تہمت ہوئی تھی اس کا بیان۔ حدیث 7021
حدیث نمبر: 7021 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، وَمَعْمَرٍ بِإِسْنَادِهِمَا، وَفِي حَدِيثِ فُلَيْحٍ اجْتَهَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ، كَمَا قَالَ مَعْمَرٌ: وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ كَقَوْلِ يُونُسَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ، قَالَ عُرْوَةُ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَكْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ، وَتَقُولُ: فَإِنَّهُ قَالَ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ، وَزَادَ أَيْضًا، قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ: وَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ مَا قِيلَ، لَيَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا كَشَفْتُ عَنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ، قَالَتْ: ثُمَّ قُتِلَ بَعْدَ ذَلِكَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَفِي حَدِيثِ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مُوعِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، وقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مُوغِرِينَ قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ: مَا قَوْلُهُ مُوغِرِينَ؟، قَالَ: الْوَغْرَةُ شِدَّةُ الْحَرِّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ، وَمَا عَلِمْتُ بِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ: أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي أُنَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي، وَايْمُ اللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سُوءٍ قَطُّ، وَأَبَنُوهُمْ بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَطُّ وَلَا دَخَلَ بَيْتِي قَطُّ، إِلَّا وَأَنَا حَاضِرٌ وَلَا غِبْتُ فِي سَفَرٍ إِلَّا غَابَ مَعِي، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ، وَلَقَدْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي، فَسَأَلَ جَارِيَتِي، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقُدُ حَتَّى تَدْخُلَ الشَّاةُ، فَتَأْكُلَ عَجِينَهَا، أَوْ قَالَتْ: خَمِيرَهَا، شَكَّ هِشَامٌ فَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: اصْدُقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ، فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّائِغُ عَلَى تِبْرِ الذَّهَبِ الْأَحْمَرِ، وَقَدْ بَلَغَ الْأَمْرُ ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ عَنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقُتِلَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفِيهِ أَيْضًا مِنَ الزِّيَادَةِ، وَكَانَ الَّذِينَ تَكَلَّمُوا بِهِ مِسْطَحٌ وَحَمْنَةُ وَحَسَّانُ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، فَهُوَ الَّذِي كَانَ يَسْتَوْشِيهِ وَيَجْمَعُهُ وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ وَحَمْنَةُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبدبن حمید نے حدیث سنائی، دونوں نے کہا: ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی، ان دونوں (فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا: انہیں (قبائلی) حمیت نے جاہلیت (کے دور) میں گھسیٹ لیا۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے: انہیں (قبائلی) حمیت نے اکسا دیا۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے: عروہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ حسان (بن ثابت رضی اللہ عنہ) کو ان کے سامنے برا بھلا کہا جائے۔ وہ فرماتی تھیں: انہوں نے یہ (عظیم شعر) کہا ہے: بے شک میرا باپ اور اس کا باپ اور میری عزت، تم لوگوں سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آبرو کی حفاظت کے لیے ڈھال ہیں۔ اور انہوں نے مزید بھی کہا: عروہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! جس شخص کے بارے میں وہ ساری باتیں، جو گھڑی گئی تھیں، وہ کہتا تھا: سبحان اللہ! (یہ کیسی باتیں ہیں) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے کبھی کسی عورت کے حجلہ عروسی (تک کا) پردہ بھی نہیں اٹھایا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: پھر بعد میں وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہو گیا۔ اور یعقوب بن ابراہیم کی حدیث میں موغرین فی نحر الظہیرۃ (لوگ دوپہر کے وقت بے سایہ بنجر راستے میں سفر سے بے حال ہو گئے تھے۔) عبدالرزاق نے موغرین (گرمی کی شدت سے بے حال ہوئے) کہا ہے۔ عبدبن حمید نے کہا: میں نے عبدالرزاق سے پوچھا: موغرین کا مطلب کیا ہے؟ کہا: الوغرۃ گرمی کی شدت ہوتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7021]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (7020) باب پر واپس اگلی حدیث (7022) →