عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَزَادَ فِيهِ عَلَى يُونُسَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَلَّمَا يُرِيدُ غَزْوَةً إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزْوَةُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ أَبَا خَيْثَمَةَ، وَلُحُوقَهُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہری کے بھتیجے محمد بن عبداللہ بن مسلم نے ہمیں اپنے چچا محمد بن مسلم زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عبدالرحمان بن عبداللہ بن کعب نے خبر دی کہ عبداللہ بن کعب بن مالک نے، اور وہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو نے کے بعد ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کی رہنمائی کرتے تھے، کہا: میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنی حدیث (اپنا واقعہ) بیان کرتے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، پھر انہوں نے (سابقہ حدیث کی طرح) حدیث بیان کی اور اس میں یونس کی روایت پر مزید یہ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کم ہی کسی غزوے کا ارادہ فرماتے تھے مگر عمداً اس جنگ کے ہو نے تک، کسی اور (مہم) کی جہت ظاہر فرماتے حتیٰ کہ یہ غزوہ (بھی اسی نہج پر) ہوا۔ اور انہوں نے زہری کے بھتیجے کی حدیث میں ابوخیثمہ کا اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملنے کا ذکر نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7018]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة