بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 6758 — باب: ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کا حکم کے بیان میں۔
کتب صحیح مسلم تقدیر کا بیان باب: ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کا حکم کے بیان میں۔ حدیث 6758
حدیث نمبر: 6758 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، وَيُشَرِّكَانِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ؟، قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ولادت پانے والا نہیں مگر وہ فطرت ہی پر پیدا ہوا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی اور مشرک بنا دیتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اگر وہ اس سے پہلے مر جائے؟ آپ نے فرمایا: اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ (بڑے ہو کر) وہ بچے کیا عمل کرنے والے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6758]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (6757) باب پر واپس اگلی حدیث (6759) →