أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَرَفَعَ الْحَدِيثَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ؟ أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ؟ أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ؟ فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقًا، قَالَ: قَالَ الْمَلَكُ: أَيْ رَبِّ ذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى؟ شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ؟ فَمَا الرِّزْقُ؟ فَمَا الْأَجَلُ؟ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن ابی بکر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے یہ حدیث مرفوعاً بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر دیتا ہے، وہ کہتا ہے: اے میرے رب! (اب) یہ نطفہ ہے، اے میرے رب! (اب) یہ علقہ ہے، اے میرے رب! (اب) یہ مضغہ ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی (انسان کی صورت میں) تخلیق کا فیصلہ کرتا ہے تو انہوں نے کہا: فرشتہ کہتا ہے: اے میرے رب! مرد ہو یا عورت؟ بدبخت ہو یا خوش نصیب؟ رزق کتنا ہو گا؟ مدت عمر کتنی ہو گی؟ وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اور اسی طرح (سب کچھ) لکھ لیا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6730]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة