أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنِ الْمَنِيِّ، يُصِيبُ ثَوْبَ الرَّجُلِ، أَيَغْسِلُهُ، أَمْ يَغْسِلُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْغَسْلِ فِيهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن بشر نے عمرو بن میمون سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے آدمی کے کپڑے کو لگ جانے والی منی کے بارے میں پوچھا کہ انسان اس جگہ کو دھوئے یا (پورے) کپڑے کو دھوئے؟ تو انہوں (سلیمان بن یسار) نے کہا: مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کپڑے سے) منی کو دھوتے، پھر اسی کپڑے میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور میں اس میں دھونے کا نشان دیکھ رہی ہوتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 672]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة