عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ الضُّبَعِيُّ ، جُوَيْرِيَةُ يَعْنِي ابْنَ أَسْمَاءَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ يَعْنِي ابْنَ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا إِذْ هِيَ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جویریہ بن اسماء نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا، اس نے بلی کو باندھے رکھا حتیٰ کہ وہ مر گئی تو وہ اسی وجہ سے جہنم میں داخل ہو گئی، کیونکہ جب اس نے بلی کو باندھا تو نہ اس کو کھلایا، نہ پلایا اور نہ اس کو چھوڑا کہ وہ (خود ہی) زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6675]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة