يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، قَالَ: " اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ أَوْدَاجُهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَهَلْ تَرَى بِي مِنْ جُنُونٍ؟ قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: فَقَالَ: وَهَلْ تَرَى، وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّجُلَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ اور محمد بن علاء نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے عدی بن ثابت سے اور انہوں نے حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آپس میں گالم گلوچ کیا، ان دو میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور گردن کی رگیں پھول گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے کہہ دے تو وہ (غصے کی) جس کیفیت میں خود کو پا رہا ہے وہ جاتی رہے گی، (وہ کلمہ ہے): «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» ۔“ اس آدمی نے کہا: کیا آپ مجھ پر جنون طاری دیکھتے ہیں؟ ابن علاء کی روایت میں (صرف) ”اور کیا آپ دیکھتے ہیں“ کے الفاظ ہیں اور انہوں نے ”آدمی“ کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6646]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة