أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ، فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ، وَيُحَنِّكُهُمْ، فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأَتْبَعَهُ بَوْلَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ (اپنی خالہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا تھا، آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کو گھٹی دیتے۔ آپ کے پاس ایک بچہ لایا گیا، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اس کے پیشاب پر بہا دیا اور اسے (رگڑ کر) دھویا نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 662]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة