زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَبِي بَصْرَةَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ، وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ، فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا، أَوَ قَالَ ذِمَّةً وَصِهْرًا، فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ، فَاخْرُجْ مِنْهَا "، قَالَ: فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ، وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ، يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم جلد ہی مصر کو فتح کرلو گے، وہ ایسی سرزمین ہے جہاں قیراط کا نام (کثرت سے) لیا جاتا ہوگا۔ جب تم اس سرزمین کو فتح کرلو گے تو وہاں کے لوگوں سے اچھا سلوک کرنا، کیونکہ ان کا حق بھی ہے اور رشتہ بھی۔“ یا فرمایا: ”ان کا حق ہے اور سسرالی رشتہ ہے، پھر جب تم وہاں پر دو آدمیوں کو ایک اینٹ کی جگہ پر لڑتے دیکھو تو وہاں سے نکل آنا۔“ عبدالرحمان بن شماسہ نے کہا: پھر میں نے سیدنا عبدالرحمان بن شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ کو ایک اینٹ کی جگہ پر لڑتے دیکھا تو میں وہاں سے نکل آیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6494]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة