عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْءٌ، فَسَبَّهُ خَالِدٌ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت خالد بن ولید اور عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی مناقشہ تھا، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو برا کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو برا نہ کہو، کیونکہ تم میں سے کسی شخص نے اگر احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کیا تو وہ ان میں سے کسی کے دیے ہوئے ایک مد کے برابر بلکہ اس کے آدھے کے برابر بھی (اجر) نہیں پا سکتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6488]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة