بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 6399 — باب: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
کتب صحیح مسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب باب: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔ حدیث 6399
حدیث نمبر: 6399 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ، جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، عروہ بن زبیر نے انہیں حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (ایسا کرتے ہوئے) اچھے نہیں لگتے کہ وہ آئے میرے حجرے کے ساتھ بیٹھ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے احادیث بیان کرنے لگے وہ مجھے (یہ) احادیث سنا رہے تھے۔ میں نفل پڑھ رہی تھی تو وہ میرے نوافل ختم کرنے سے پہلے اٹھ گئے۔ اگر میں (نوافل ختم کرنے کے بعد) انہیں موجود پاتی تو میں ان کو جواب میں یہ کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم لوگوں کی طرح تسلسل سے ایک کے بعد دوسری بات ارشاد نہیں فرماتے تھے۔ ابن شہاب نے بیان کیا: حضرت سعید بن مسیب نے روایت کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت احادیث بیان کرتے ہیں اور پیشی اللہ کے سامنے ہونی ہے، نیز وہ کہتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ مہاجرین اور انصار ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح احادیث بیان نہیں کرتے؟ میں تم کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں۔ میرے انصاری بھائیوں کو ان کی زمینوں کا کام مشغول رکھتا تھا اور میرے مہاجر بھائیوں کو بازار کی خرید و فروخت مصروف رکھتی تھی اور میں پیٹ بھرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ لگا رہتا تھا، جب دوسرے لوگ غائب ہوتے تو میں حاضر رہتا تھا اور جن باتوں کو وہ بھول جاتے تھے میں ان کو یاد رکھتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون شخص اپنا کپڑا بچھائے گا تاکہ میری یہ بات (حدیث) سنے پھر اس (کپڑے) کو اپنے سینے سے لگا لے تو اس نے جو کچھ سنا ہو گا اس میں سے کوئی چیز نہیں بھولے گا۔ میں نے ایک چادر جو میرے کندھوں پر تھی پھیلا دی یہاں تک کہ آپ اپنی بات سے فارغ ہوئے تو میں نے اس چادر کو اپنے سینے کے ساتھ اکٹھا کر لیا تو اس دن کے بعد کبھی کوئی ایسی چیز نہیں بھولا جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی۔ اگر دو آیتیں نہ ہوتیں، جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی ہیں تو میں کبھی کوئی چیز بیان نہ کرتا (وہ آیتیں یہ ہیں) وہ لوگ جو ہماری اتاری ہوئی کھلی باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں۔۔۔ دونوں آیتوں کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6399]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (6398) باب پر واپس اگلی حدیث (6400) →