قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانَ ، الزُّهْرِيِّ ، الْأَعْرَجِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ كُنْتُ رَجُلًا مِسْكِينًا أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ، وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَبْسُطْ ثَوْبَهُ فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي، فَبَسَطْتُ ثَوْبِي حَتَّى قَضَى حَدِيثَهُ ثُمَّ ضَمَمْتُهُ إِلَيَّ، فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے اعرج سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: تم یہ سمجھتے ہو کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتا ہے، اللہ ہی کے پاس پیشی ہونی ہے۔ میں ایک مسکین آدمی تھا، پیٹ بھر جانے پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لگا رہتا تھا۔ مہاجروں کو بازار میں گہما گہمی مشغول رکھتی تھی اور انصار کو اپنے مال (مویشی) وغیرہ کی نگہداشت مشغول رکھتی تھی، تو (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کون اپنا کپڑا پھیلائے گا، پھر جو چیز بھی اس نے مجھ سے سنی اسے ہرگز نہیں بھولے گا۔“ تو میں نے اپنا کپڑا پھیلا دیا، یہاں تک کہ آپ نے اپنی بات مکمل کی تو میں نے وہ (کپڑا سمیٹ کر) اپنے ساتھ لگا لیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو کچھ سنا اس میں سے کوئی چیز کبھی نہ بھولا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6397]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة