الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحَدَّثَنِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ وَلَمْ يَشُكَّ، وَقَالَ: قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ، وَقَالَ: وَصِفْرُ رِدَائِهَا، وَخَيْرُ نِسَائِهَا، وَعَقْرُ جَارَتِهَا، وَقَالَ: وَلَا تَنْقُثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، وَقَالَ: وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ ذَابِحَةٍ زَوْجًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن سلمہ نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ بیان کی، مگر (ساتویں کے خاوند کے متعلق) شک کے بغیر: ”عاجز اور ماندہ ہے عقل پر حماقت کی تہیں لگی ہوئی ہیں“ کہا: اور (دسویں کے خاوند کے متعلق) کہا: (اس کی اونٹنیاں) چراگاہوں میں کم بھیجی جاتی ہیں (خدام باڑے میں چارہ مہیا کرتے ہیں۔) اور (ابوذرع کی بیٹی کے بارے میں) کہا: اس کی اوڑھنے کی چادر خالی لگتی ہے (اس کا پیٹ بڑھا ہوا نہیں ہے جبکہ ملء کسائہ سے مراد ہے کہ جسم کے باقی حصے لباس کو بھر دیتے ہیں) قبیلے کی بہترین عورت ہے اور (اپنی خوبصورتی اور وقار کی بنا پر) سوتن کے لیے نیزے کا زخم (درد و تکلیف کا سبب) ہے اور (خادمہ کے بارے میں اس طرح) کہا: ”وہ ہمارا کھانا ضائع نہیں کرتی۔“ اور ( «وَأَعْطَانِی مِنْ کُلِّ رَائِحَۃٍ زَوْجًا» کے بجائے) «وَأَعْطَانِی مِنْ کُلِّ ذَابِحَۃٍ زَوْجًا»، (اور مجھے ہر اعلیٰ درجے کی ذبح کی ہوئی چیز میں سے دگنا دگنا دیا) کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6306]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة