أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبِي أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَتَفَقَّدُ، يَقُولُ: " أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ، أَيْنَ أَنَا غَدًا، اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي، قَبَضَهُ اللَّهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (بیماری کے دوران میں) دریافت کرتے فرماتے تھے: ”آج میں کہاں ہوں؟ کل میں کہاں ہوں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لگتا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن آ ہی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا: جب میری باری کا دن آیا تو اللہ نے آپ کو اس طرح اپنے پاس بلایا کہ آپ میرے سینے اور حلق کے درمیان (سر رکھے ہوئے) تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6292]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة