يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّهَا كَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَكَانَتْ تَأْتِينِي صَوَاحِبِي، فَكُنَّ يَنْقَمِعْنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن محمد نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گڑیوں سے کھیلتی تھیں، کہا: اور میری سہیلیاں میرے پاس آتی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی (آمد کی) وجہ سے (گھر کے کسی کونے میں) چھپ جاتی تھیں، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کو (بلا کر) میری طرف بھیج دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6287]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة