أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ، مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلَاثِ سِنِينَ، لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُبَشِّرَهَا، بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِيهَا إِلَى خَلَائِلِهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: مجھے کبھی کسی خاتون پر ایسا رشک نہیں آیا جیسا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آیا تھا، حالانکہ مجھ سے نکاح سے تین سال قبل وہ فوت ہو چکی تھیں، کیونکہ میں اکثر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان کا ذکر سنتی تھی، آپ کے رب عزوجل نے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ ان کو جنت میں (موتیوں کی) شاخوں سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دیں۔ اور بے شک آپ بکری ذبح کرتے، پھر اس (کے پارچوں) کو ان کی سہیلیوں کی طرف بھیج دیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6277]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة