أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْكَ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ، أَوْ طَعَامٌ، أَوْ شَرَابٌ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ وَمِنِّي، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ، وَلَمْ يَقُلْ فِي الْحَدِيثِ: وَمِنِّي.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اور ابن نمیر نے کہا: ہمیں ابن فضیل نے عمارہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! یہ خدیجہ ہیں، آپ کے پاس آئی ہیں، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن ہے یا کھانا ہے یا مشروب ہے، چنانچہ جب یہ آپ کے پاس آ جائیں تو انہیں ان کے رب عزوجل کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں اور انہیں جنت میں ایک گھر کی خوشخبری دیں جو (موتیوں کی) لمبی چھڑیوں کا بنا ہوا ہے، نہ اس میں کوئی شور ہے اور نہ تھکاوٹ کا گزر ہے۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں کہا: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔“ انہوں نے ”میں نے سنا“ (کا لفظ) نہیں کہا اور نہ ہی حدیث میں ”اور میری طرف سے“ (کا لفظ) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6273]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة