يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِصِبْيَانِ أَهْلِ بَيْتِهِ، قَالَ: وَإِنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ، فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ، قَالَ: فَأُدْخِلْنَا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةً عَلَى دَابَّةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے عاصم احول سے، انہوں نے مورق عجلی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی سفر سے آتے تو آپ کے گھر کے بچوں کو (باہر لے جا کر) آپ سے ملایا جاتا، ایک بار آپ سفر سے آئے، مجھے سب سے پہلے آپ کے پاس پہنچا دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا دیا، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ایک صاحبزادے کو لایا گیا تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیچھے بٹھا لیا۔ کہا: تو ہم تینوں کو ایک سواری پر مدینہ کے اندر لایا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6268]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة