أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لَهَا، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهَا لَخَلِيقٌ، يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَيَّ مِنْ بَعْدِهِ، فَأُوصِيكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سالم نے اپنے والد (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اور (اس وقت) آپ منبر پر تھے: ”اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کر رہے ہو (آپ کی مراد حضرت اسامہ بن زید سے تھی) تو اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر (بھی) اعتراض کر چکے ہو۔ اللہ کی قسم! وہ امارت کا اہل تھا اور مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اور اس کے بعد یہ بھی مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ میں تمہیں اس کے ساتھ ہر طرح کی اچھائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارے نیک ترین لوگوں میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6265]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة