مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ ، صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا، فَقَالَ: لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ حَقَّ أَمِينٍ، قَالَ: فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ، قَالَ: فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: میں نے ابواسحاق کو صلہ بن زفر سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اہل نجران آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک امین شخص بھیجیے۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہارے پاس ایسا شخص بھیجوں گا جو اس طرح امین ہے جیسے امین ہونے کا حق ہے۔“ لوگوں نے اس بات پر اپنی نگاہیں اٹھائیں (کہ اس کا مصداق کون ہے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو روانہ فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6254]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة