مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَمَعَ لَهُ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَحْرَقَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ: فَنَزَعْتُ لَهُ بِسَهْمٍ لَيْسَ فِيهِ نَصْلٌ فَأَصَبْتُ جَنْبَهُ، فَسَقَطَ فَانْكَشَفَتْ عَوْرَتُهُ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى نَوَاجِذِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عامر بن سعد نے اپنے والد سے روایت کی، کہ جنگ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام لیا۔ مشرکوں میں سے ایک شخص نے مسلمانوں کو جلا ڈالا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سعد سے کہا: ”تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں!“ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس کے لیے (ترکش سے) ایک تیر کھینچا، اس کے پرَ ہی نہیں تھے۔ میں نے وہ اس کے پہلو میں مارا تو وہ گر گیا اور اس کی شرمگاہ (بھی) کھل گئی تو (اس کے اس طرح گرنے پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ مجھے آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھل کھلا کر ہنسے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6237]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة