يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، خَالِدٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ حَائِطًا، وَتَبِعَهُ غُلَامٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ هُوَ أَصْغَرُنَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ سِدْرَةٍ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاء ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خالد (ھذاء) نے عطاء بن ابی میمونہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک احاطے میں داخل ہوئے اور آپ کے پیچھے ایک لڑکا بھی چلا گیا جس کے پاس وضو کا برتن تھا، وہ ہم میں سب سے چھوٹا تھا، اس نے اسے ایک بیری کے درخت کے پاس رکھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قضائے حاجت کی اور پانی سے استنجا کر کے ہمارے پاس تشریف لائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 619]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة