عَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلَا أَدْرِي، أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ، فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوِ اكْتَفَى بِصَعْقَةِ الطُّورِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواحمد زبیری نے کہا: ہمیں سفیان نے عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جس کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا تھا۔ اس کے بعد زہری کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر انہوں نے (یوں) کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:) ”مجھے معلوم نہیں وہ (موسیٰ علیہ السلام) ان میں سے تھے جنہیں بے ہوشی تو ہوئی لیکن افاقہ مجھ سے پہلے ہو گیا یا کوہ طور کا صعقہ کافی سمجھا گیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6155]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة