زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَةً لَهُ، أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا كَرِهَهُ، أَوْ لَمْ يَرْضَهُ، شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ، قَالَ: لَا، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ، قَالَ: فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَطَمَ وَجْهَهُ، قَال: تَقُولُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ أَظْهُرِنَا، قَالَ: فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، إِنَّ لِي ذِمَّةً، وَعَهْدًا، وَقَالَ: فُلَانٌ لَطَمَ وَجْهِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ، قَالَ: قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ، وَأَنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ، فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ، وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ، أَوْ فِي أَوَّلِ مَنْ بُعِثَ، فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، آخِذٌ بِالْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي، أَحُوسِبَ بِصَعْقَتِهِ يَوْمَ الطُّورِ، أَوْ بُعِثَ قَبْلِي، وَلَا أَقُولُ، إِنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَام ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حجین بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے عبداللہ بن فضل ہاشمی سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک بار ایک یہودی اپنا سامان بیچ رہا تھا اس کو اس کے کچھ معاوضے کی پیش کش کی گئی جو اسے بری لگی یا جس پر وہ راضی نہ ہوا۔ شک عبدالعزیز کو ہوا۔ وہ کہنے لگا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی! انصار میں سے ایک شخص نے اس کی بات سن لی تو اس کے چہرے پر تھپڑ لگایا، کہا: تم کہتے ہو اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی! جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (تشریف لا چکے اور) ہمارے درمیان موجود ہیں۔ کہا: تو وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابوالقاسم! میری ذمہ داری لی گئی ہے اور ہم سے (سلامتی کا) وعدہ کیا گیا ہے۔ اور کہا: فلاں شخص نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کہا: ”تم نے اس کے منہ پر تھپڑ کیوں مارا؟“ کہا کہ اس نے کہا تھا: اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے جبکہ آپ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو غصہ آیا اور آپ کے چہرہ مبارک سے غصہ ظاہر ہونے لگا، پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ کے نبیوں کے مابین (انہیں ایک دوسرے پر) فضیلت نہ دیا کرو اس لیے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا آسمانوں اور زمین میں جو مخلوق ہے سب کے ہوش و حواس جاتے رہیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا، تو سب سے پہلے جسے اٹھایا جائے گا وہ میں ہوں گا یا (فرمایا) جنہیں سب سے پہلے اٹھایا جائے گا میں ان میں ہوں گا۔ تو (میں دیکھوں گا کہ) حضرت موسیٰ علیہ السلام عرش کو پکڑے ہوئے ہوں گے، مجھے معلوم نہیں کہ ان کے لیے یوم طور کی بے ہوشی کو شمار کیا جائے گا (اور وہ اس کے عوض اس بے ہوشی سے مستثنیٰ ہوں گے،) یا انہیں مجھ سے پہلے ہی اٹھایا جائے گا، میں (یہ بھی) نہیں کہتا کہ کوئی (نبی) یونس بن متی علیہ السلام سے افضل ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6151]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة