بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 6126 — باب: احکام شرعیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے کا وجوب اور احکام دنیویہ میں عمل کا اختیار۔
کتب صحیح مسلم انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل باب: احکام شرعیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے کا وجوب اور احکام دنیویہ میں عمل کا اختیار۔ حدیث 6126
حدیث نمبر: 6126 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكٍ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِقَوْمٍ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالُوا يُلَقِّحُونَهُ، يَجْعَلُونَ الذَّكَرَ فِي الْأُنْثَى، فَيَلْقَحُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَظُنُّ يُغْنِي ذَلِكَ شَيْئًا، قَالَ: فَأُخْبِرُوا بِذَلِكَ، فَتَرَكُوهُ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ، فَلْيَصْنَعُوهُ، فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا، فَلَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ، وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ شَيْئًا، فَخُذُوا بِهِ، فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگوں کے قریب سے گزرا جو درختوں کی چوٹیوں پر چڑھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ گابھہ لگا رہے ہیں نر (کھجور کا بور) مادہ (کھجور) میں ڈال رہے ہیں اس طرح یہ (درخت) ثمر آور ہو جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرا گمان نہیں کہ اس کا کچھ فائدہ ہو تا ہے۔ لوگوں کو یہ بات بتا دی گئی تو انہوں نے (گابھہ لگانے کا) یہ عمل ترک کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی۔ تو آپ نے فرمایا: اگر یہ کام انہیں فائدہ پہنچاتا ہے تو کریں۔ میں نے تو ایک بات کا گمان کیا تھا تو گمان کے حوالے سے مجھے ذمہ دار نہ ٹھہراؤ لیکن جب میں اللہ کی طرف سے تمھارے ساتھ بات کروں تو اسے اپنا لو، کیونکہ اللہ عزوجل پر کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6126]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (6122) باب پر واپس اگلی حدیث (6127) →