قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ، فَمَسَحَ رَأْسِي، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جعد بن عبدالرحمان نے کہا: میں نے حضرت سائب بن یزید سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے گئی اور کہا کہ یا رسول اللہ! میرا بھانجا بہت بیمار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی۔ پھر وضو کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیٹھ کے پیچھے کھڑا ہوا تو مجھے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان آپ کی مہر (نبوت) مسہری کے لٹو کی طرح نظر آئی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6087]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة