أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، إِسْرَائِيلَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ، وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ، وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ، وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ، قَالَ: لَا، بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَكَانَ مُسْتَدِيرًا، وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ، مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ، يُشْبِهُ جَسَدَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسرائیل نے سماک سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر اور ڈاڑھی کا آگے کا حصہ سفید ہو گیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیل ڈالتے تو سفیدی معلوم نہیں ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ڈاڑھی بہت گھنی تھی۔ ایک شخص بولا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح یعنی لمبا تھا؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ مبارک سورج اور چاند کی طرح گول تھا اور میں نے نبوت کی مہر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھے پر دیکھی جیسے کبوتر کا انڈا ہوتا ہے اور اس کا رنگ جسم کے رنگ سے ملتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6084]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة