أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ ، أُمِّ سُلَيْمٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا، فَتَبْسُطُ لَهُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ، وَكَانَ كَثِيرَ الْعَرَقِ، فَكَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ وَالْقَوَارِيرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا؟ قَالَتْ: عَرَقُكَ أَدُوفُ بِهِ طِيبِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے اور آرام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسینہ آیا، میری ماں ایک شیشی لائی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھ کھل گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:”اے ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو؟“وہ بولی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑھ کر خود خوشبو ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6057]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة