أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا خَادِمًا، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ، فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ، إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا، نہ کسی عورت کو، نہ کسی غلام کو، مگر یہ کہ آپ اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے ہوں۔ اور جب بھی آپ کو نقصان پہنچایا گیا تو کبھی (ایسا نہیں ہوا کہ) آپ نے اس سے انتقام لیا ہو مگر یہ کہ کوئی اللہ کی محرمات میں سے کسی کو خلاف ورزی کرتا تو آپ اللہ عزوجل کی خاطر انتقام لے لیتے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6050]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة