أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ، فَقَالَتْ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، فَقَالَ: يَا أُمَّ فُلَانٍ، انْظُرِي أَيَّ السِّكَكِ شِئْتِ، حَتَّى أَقْضِيَ لَكِ حَاجَتَكِ، فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ، حَتَّى فَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک عورت کی عقل میں کچھ نقص تھا (ایک دن) وہ کہنے لگی: اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (بہت شفقت واحترام سے) فرمایا:”ام فلاں! دیکھو، جس گلی میں تم چاہو (کھڑی ہوجاؤ) میں (وہاں آکر) تمہارا کام کر دوں گا۔“آپ ایک راستے میں اس سے الگ ملے، یہاں تک کہ اس نے اپنا کام کر لیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6044]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة