يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَبُو خَيْثَمَةَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : " أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، كَثِيرًا، كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ، وَيَتَبَسَّمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سماک بن حرب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں شرکت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، بہت شرکت کی، آپ جس جگہ پر صبح کی نماز پڑھتے تھے تو سورج نکلنے سے پہلے وہاں نہیں اٹھتے تھے۔ جب سورج نکل آیا تو آپ وہاں سے اٹھتے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جاہلیت کے (کسی نہ کسی) معاملے کو لیتے اور (اس پر باہم) بات چیت کرتے تو ہنسی مذاق بھی کرتے، (لیکن) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (صرف) مسکراتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6035]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة