أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، شَرِيكٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ جميعا، عَنْ شَرِيكٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شریک نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”عربوں نے شعر میں جو سب سے عمدہ بات کہی وہ بات لبید کا یہ جملہ ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز (جس کی عبادت کی جاتی ہے) باطل ہے۔“(دوسرا مصرع ہے: «وكلُّ نعيمٍ لا محالَةَ زائلُ» اور ہر نعمت لازمی طور پر زائل ہونے والی ہے)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الشِّعْرِ/حدیث: 5888]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة