قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ، فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا، فَقَالَ: " فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابو صالح سمان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار ایک شخص راستے میں چلا جا رہا تھا، اس کو شدید پیاس لگی، اسے ایک کنواں ملا، وہ اس کنویں میں اترا اور پانی پیا، پھر وہ کنویں سے نکلا، تو اس کے سامنے ایک کتا زور زور سے ہانپ رہا تھا، پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا تھا، اس شخص نے (دل میں) کہا: یہ کتا بھی پیاس سے اسی حالت کو پہنچا ہے جو میری ہوئی تھی۔ وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے کو پانی سے بھرا، پھر اس کو منہ سے پکڑا، یہاں تک کہ اوپر چڑھ آیا، پھر اس نے کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس نیکی کا بدلہ دیا، اس کو بخش دیا۔“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے ان جانوروں میں اجر ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نمی رکھنے والے ہر جگر میں (کسی بھی جاندار کا ہو) اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5859]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة