مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، نَافِعٍ ، أَبُو لُبَابَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ كَلَّمَ ابْنَ عُمَرَ لِيَفْتَحَ لَهُ بَابًا فِي دَارِهِ يَسْتَقْرِبُ بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدَ الْغِلْمَةُ جِلْدَ جَانٍّ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: الْتَمِسُوهُ فَاقْتُلُوهُ، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ : لَا تَقْتُلُوهُ فَإِنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث بن سعد نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بات کی کہ وہ ان کے لیے اپنے گھر (کے احاطے) میں ایک دروازہ کھول دیں جس سے وہ مسجد کے قریب آجائیں تو لڑکوں کو سانپ کی ایک کینچلی ملی، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کو قتل مت کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان چھپے ہوئے سانپوں کے مارنے سے منع فرمایا ہے جو گھروں کے اندر ہوتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5828]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة