أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " لَا عَدْوَى "، وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُهُمَا كِلْتَيْهِمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَمَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَوْلِهِ: لَا عَدْوَى، وَأَقَامَ عَلَى أَنْ لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصح، قَالَ: فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ: قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تُحَدِّثُنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ حَدِيثًا آخَرَ قَدْ سَكَتَّ عَنْهُ، كُنْتَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى "، فَأَبَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْ يَعْرِفَ ذَلِكَ، وَقَالَ: " لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ "، فَمَا رَآهُ الْحَارِثُ فِي ذَلِكَ حَتَّى غَضِبَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ، فَقَالَ لِلْحَارِثِ: أَتَدْرِي مَاذَا قُلْتُ؟، قَالَ: لَا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ أَبَيْتُ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا عَدْوَى "، فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَبُو هُرَيْرَة أَوْ نَسَخَ أَحَدُ الْقَوْلَيْنِ الْآخَرَ
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا“ اور وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے (چرواہے) کے پاس اونٹ نہ لے جائے۔“ ابوسلمہ نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں حدیثیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیا کرتے تھے، پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ”لاعدوی“ والی حدیث بیان کرنے سے رک گئے اور ”بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے کے پاس (اونٹ) نہ لائے۔“ والی حدیث پر قائم رہے۔ تو حارث بن ابی ذباب نے۔ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے چچا کے بیٹے تھے۔ کہا: ابوہریرہ! میں تم سے سنا کرتا تھا، تم اس کے ساتھ ایک اور حدیث بیان کرتے تھے جسے بیان کرنے سے اب تم خاموش ہو گئے ہو۔ تم کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے مرض خود بخود نہیں چمٹتا“ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو پہنانے سے انکار کر دیا اور یہ حدیث بیان کی۔ ”بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے کے پاس (اونٹ) نہ لائے۔“ اس پر حارث نے اس معاملے میں ان کے ساتھ تکرار کی حتی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غصے میں آگئے اور حبشی زبان میں ان کو نہ سمجھ میں آنے والی کوئی بات کہی، پھر حارث سے کہا: تمہیں پتہ چلا ہے کہ میں نے تم سے کیا کہا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: میں (اس سے) انکار کرتا ہوں۔ ابوسلمہ نے کہا: مجھے اپنی زندگی کی قسم! ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں یہ حدیث سنایا کرتے تھے۔ ”لاعدوی (کسی سے خود بخود کوئی بیماری نہیں لگتی)“ مجھے معلوم نہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھول گئے ہیں یا ایک بات نے دوسری کو منسوخ کر دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5791]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة