عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، صَفِيَّةَ
وحدثينيه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، وَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْلِبُهَا، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ " وَلَمْ يَقُلْ يَجْرِي.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعیب نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے علی بن حسین نے بتایا کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ رمضان کے آخری عشرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعتکاف کے دوران مسجد میں آپ سے ملنے آئیں، انہوں نے گھڑی بھر آپ سے بات کی، پھر واپسی کے لیے کھڑی ہو گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان کو واپس چھوڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد (شعیب نے) معمر کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان انسان کے اندر وہاں پہنچتا ہے جہاں خون پہنچتا ہے۔“ انہوں نے ”دوڑتا ہوا“ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5680]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة