عَمْرٌو النَّاقِدُ ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قال: سَمَّيْتُ ابْنَتِي بَرَّةَ، فَقَالَتْ لِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا الِاسْمِ وَسُمِّيتُ بَرَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ "، فَقَالُوا: بِمَ نُسَمِّيهَا، قَالَ: " سَمُّوهَا زَيْنَبَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی، کہا: میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور (بتایا کہ) میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنی پارسائی بیان کرو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے۔“ (گھر کے) لوگوں نے کہا: پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا نام زینب رکھ دو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5609]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة