مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَبْدَةُ ، هِشَامٌ ، فَاطِمَةَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ مَالِ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدہ نے کہا: ہمیں ہشام نے فاطمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا: میری ایک سوکن ہے، کیا مجھے اس بات پر گناہ ہو گا کہ میں خود کو اپنے خاوند کے ایسے مال سے سیر ہو جانے والی ظاہر کروں جو اس نے مجھے نہیں دیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو نہیں دیا گیا اس (مال یا کھانے) سے خود کو سیر ظاہر کرنے والا جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5584]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة