مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قال: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " نَهَانِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ أَوِ الَّتِي تَلِيهَا، لَمْ يَدْرِ عَاصِمٌ فِي أَيِّ الثِّنْتَيْنِ "، " وَنَهَانِي عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ جُلُوسٍ عَلَى الْمَيَاثِرِ "، قَالَ: فَأَمَّا الْقَسِّيِّ فَثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ يُؤْتَى بِهَا مِنْ مِصْرَ وَالشَّامِ فِيهَا شِبْهُ كَذَا، وَأَمَّا الْمَيَاثِرُ فَشَيْءٌ كَانَتْ تَجْعَلُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى الرَّحْلِ كَالْقَطَائِفِ الْأُرْجُوَانِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ادریس نے کہا: میں نے عاصم بن کلیب سے سنا، انہوں نے ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: آپ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس انگلی یا اس کے پاس والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔ عاصم کو یہ یاد نہیں رہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کون سی دو انگلیوں میں (پہننے سے منع کیا تھا)۔ اور آپ نے مجھے قس کے ریشمی کپڑے پہننے اور ریشمی گدوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ انہوں نے (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے کہا «قَسَي» (ریشمی) دھاریوں والا کپڑا مصر اور شام سے آتا تھا، اس میں کچھ شبیہیں (تصویروں جیسے نقش و نگار) ہوتی ہیں۔ اور میاثر اس کہتے ہیں جو عورتیں اپنے خاوندوں کی خاطر زین پر رکھنے کے لیے بناتی تھیں، جس طرح ارغوانی رنگ کے گدے ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5490]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة