أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِزَارِي اسْتِرْخَاءٌ، فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ: " ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَرَفَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ: زِدْ، فَزِدْتُ فَمَا زِلْتُ أَتَحَرَّاهَا بَعْدُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِلَى أَيْنَ؟، فَقَالَ: أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن واقد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب سے گزرا میری کمر کی چادر کسی حد تک لٹک رہی تھی تو آپ نے فرمایا: ”عبداللہ! اپنی چادر اوپر کر لو۔“ میں نے اپنی چادر اوپر کر لی۔ آپ نے فرمایا: ”اور زیادہ کر لو۔“ میں نے اور زیادہ اوپر کی، پھر میں اس کو اوپر کرتا رہا حتی کہ بعض لوگوں نے عرض کی کہاں تک (اوپر کرے)؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پنڈلیوں کے آدھے حصوں تک۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5462]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة