يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَبُو خَيْثَمَةَ ، أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، أَشْعَثُ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ أَوْ عَنْ تَخَتُّمٍ بِالذَّهَبِ، وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيبَاجِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوخیثمہ زہیر نے کہا: ہمیں اشعث نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے معاویہ بن سوید بن مقرن نے حدیث بیان کی، کہا: میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو ان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے روکا مریض کی عیادت کرنے، جنازے کے ساتھ شریک ہونے، چھینک کا جواب دینے، (اپنی) قسم یا قسم دینے والے (کی قسم) پوری کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت قبول کرنے، انگوٹھی پہننے سے، چاندی کے برتن میں (کھانے) پینے، ارغوانی (سرخ) گدوں سے (اگر وہ ریشم کے ہوں)، مصر کے علاقے قس کے بنے ہوئے کپڑوں (جو ریشم کے ہوتے تھے۔) اور (کسی بھی قسم کے) ریشم استبرق اور دیباج کو پہننے سے روکا (استبراق ریشم کا موٹا کپڑا تھا اور دیباج باریک۔) [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5388]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة