بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 5366 — باب: مہمان کی خاطرداری کرنا چاہئے۔
کتب صحیح مسلم مشروبات کا بیان باب: مہمان کی خاطرداری کرنا چاہئے۔ حدیث 5366
حدیث نمبر: 5366 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: نَزَلَ عَلَيْنَا أَضْيَافٌ لَنَا، قَالَ: وَكَانَ أَبِي يَتَحَدَّثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ، وَقَالَ: " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، افْرُغْ مِنْ أَضْيَافِكَ، قَالَ: فَلَمَّا أَمْسَيْتُ جِئْنَا بِقِرَاهُمْ، قَالَ: فَأَبَوْا، فَقَالُوا: حَتَّى يَجِيءَ أَبُو مَنْزِلِنَا فَيَطْعَمَ مَعَنَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُمْ: إِنَّهُ رَجُلٌ حَدِيدٌ، وَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا خِفْتُ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ أَذًى، قَالَ: فَأَبَوْا فَلَمَّا جَاءَ لَمْ يَبْدَأْ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَفَرَغْتُمْ مِنْ أَضْيَافِكُمْ؟، قَالَ: قَالُوا: لَا وَاللَّهِ مَا فَرَغْنَا، قَالَ: أَلَمْ آمُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: وَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ: فَتَنَحَّيْتُ، قَالَ: فَقَالَ: يَا غُنْثَرُ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي إِلَّا جِئْتَ، قَالَ: فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا لِي ذَنْبٌ هَؤُلَاءِ أَضْيَافُكَ، فَسَلْهُمْ قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يَطْعَمُوا حَتَّى تَجِيءَ، قَالَ: فَقَالَ: مَا لَكُمْ أَنْ لَا تَقْبَلُوا عَنَّا قِرَاكُمْ؟، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَوَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَقَالُوا: فَوَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ كَالشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ قَطُّ، وَيْلَكُمْ مَا لَكُمْ أَنْ لَا تَقْبَلُوا عَنَّا قِرَاكُمْ؟، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَمَّا الْأُولَى فَمِنَ الشَّيْطَانِ هَلُمُّوا قِرَاكُمْ، قَالَ: فَجِيءَ بِالطَّعَامِ فَسَمَّى فَأَكَلَ وَأَكَلُوا، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَرُّوا وَحَنِثْتُ، قَالَ: فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَأَخْيَرُهُمْ "، قَالَ: وَلَمْ تَبْلُغْنِي كَفَّارَةٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریری نے ابوعثمان سے، انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہمارے ہاں ہمارے کچھ مہمان آئے، میرے والد رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھ کر گفتگو کیا کرتے تھے، وہ چلے گئے اور مجھ سے فرمایا: عبدالرحمان! تم اپنے مہمانوں کی سب خدمت بجا لانا۔ جب شام ہوئی تو ہم نے (ان کے سامنے) کھانا پیش کیا، کہا: تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا: جب گھر کے مالک (بچوں کے والد) آئیں گے اور ہمارے ساتھ کھانا کھائیں گے (ہم اس وقت کھانا کھائیں گے۔) کہا: میں نے ان کو بتایا کہ وہ (میرے والد) تیز مزاج آدمی ہیں، اگر تم نے کھانا نہ کھایا تو مجھے خدشہ ہے کہ مجھے ان کی طرف سے سزا ملے گی۔ کہا: لیکن وہ نہیں مانے، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو ان (کے متعلق پوچھنے) سے پہلے انہوں نے کوئی (اور) بات شروع نہ کی۔ انہوں نے کہا: مہمانوں (کی میزبانی) سے فارغ ہو گئے ہو؟ گھر والوں نے کہا: واللہ! ابھی ہم فارغ نہیں ہوئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں نے عبدالرحمان کو کہا نہیں تھا؟ (حضرت عبدالرحمان نے) کہا: میں ایک طرف ہٹ گیا انہوں نے آواز دی: عبدالرحمان! میں کھسک گیا۔ پھر انہوں نے کہا: اے احمق! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آواز سن رہا ہے تو آ جا۔ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آ گیا اور میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ ہیں آپ کے مہمان ان سے پوچھ لیجیے، میں ان کا کھانا ان کے پاس لایا تھا، انہوں نے آپ کے آنے تک کھانے سے انکار کر دیا، (عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو انہوں (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے (ان سے) کہا: کیا بات ہے؟ تم نے ہمارا پیش کیا ہوا کھانا کیوں قبول نہیں کیا؟ (عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں آج رات یہ کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مہمانوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک آپ نہیں کھاتے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شر جیسا (شر)، اس رات جیسی (رات) میں نے کبھی نہیں دیکھی، تم لوگوں پر افسوس! تمہیں کیا ہے؟ تم لوگوں نے ہماری دعوت قبول کیوں نہیں کی؟ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: (میری) پہلی بات (نہ کھانے کی قسم) شیطان کی طرف سے (ابھارنے پر) تھی۔ چلو، اپنا میزبانی کا کھانا لاؤ۔ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر کھانا لایا گیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا اور مہمانوں نے بھی کھایا صبح ہوئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اللہ کے رسول! ان لوگوں نے قسم پوری کر لی اور میں نے توڑ دی (کہا) پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے) فرمایا: نہیں، تم ان سے بڑھ کر قسم پوری کرنے والے ہو، ان سے بہتر ہو، (حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: مجھ تک کفارہ دینے کی بات نہیں پہنچی (مجھے معلوم نہیں کہ میرے والد نے کفارہ دیا یا کب دیا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5366]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (5365) باب پر واپس اگلی حدیث (5367) →