أَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُضِيفَهُ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَا يُضِيفُهُ، فَقَالَ: " أَلَا رَجُلٌ يُضِيفُ هَذَا رَحِمَهُ اللَّهُ؟ " فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَذَكَرَ فِيهِ نُزُولَ الْآيَةِ كَمَا ذَكَرَهُ وَكِيعٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن فضیل نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوحازم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے مہمان بنالیں، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس کی میزبانی کے لیے کچھ بھی نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسا شخص ہے جو اس کو مہمان بنائے؟ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے!“ انصار میں سے ایک شخص کھڑے ہو گئے، انہیں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، وہ اس (مہمان) کو اپنے گھر لے گئے، اس کے بعد جریر کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی، انہوں نے بھی وکیع کی طرح آیت نازل ہونے کا ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5361]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة