مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، " فَجِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْ ذَلِكَ الدُّبَّاءِ وَيُعْجِبُهُ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أُلْقِيهِ إِلَيْهِ وَلَا أَطْعَمُهُ، قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: فَمَا زِلْتُ بَعْدُ يُعْجِبُنِي الدُّبَّاءُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔ آپ کے لیے شوربہ لایا گیا اس میں کدو (بھی) تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے کدو کھانے لگے وہ آپ کو اچھا لگ رہا تھا۔ جب میں نے یہ بات دیکھی تو میں کدو (کے ٹکڑے) آپ کے سامنے کرنے لگا اور خود نہ کھایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس دن کے بعد سے مجھے کدو بہت اچھا لگتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5326]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة