زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ، فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ يَدْعُوهُ، فَقَالَ: وَهَذِهِ لِعَائِشَةَ، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، فَعَادَ يَدْعُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ: لَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ: نَعَمْ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک فارس سے تعلق رکھنے والا پڑوسی شوربا اچھا بناتا تھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے شوربا تیار کیا، پھر آ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دعوت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”ان کو بھی دعوت ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (مجھے بھی تمہاری دعوت قبول نہیں)“ وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلانے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو بھی؟“ اس نے کہا: نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تو نہیں۔“ وہ پھر دعوت دینے کے لیے آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو بھی؟“ تو تیسری بار اس نے کہا: ہاں۔ پھر آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ اس کے گھر آ گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5312]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة