مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُمَا: " بَشِّرَا وَيَسِّرَا وَعَلِّمَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَأُرَاهُ قَالَ: وَتَطَاوَعَا، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى رَجَعَ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَهُمْ شَرَابًا مِنَ الْعَسَلِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعْقِدَ وَالْمِزْرُ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَا أَسْكَرَ عَنِ الصَّلَاةِ فَهُوَ حَرَامٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو نے سعد بن ابی بردہ سے سنا، انہوں نے اپنے والد (ابوبردہ عامر بن ابی موسیٰ) کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا: ”تم دونوں لوگوں کو (اچھے اعمال کے انعام کی) خوشخبری سنانا اور (معاملات کو) آسان بنانا، (دین) سکھانا اور متنفر نہ کرنا۔“ میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی روایت کیا آپ نے فرمایا: ”دونوں ایک دوسرے سے موافقت سے رہنا۔“ جب (اجازت لے کر) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پیچھے کی طرف مڑے تو کہا: اللہ کے رسول! ان کا شہد سے بنایا ہوا ایک مشروب ہے جسے پکایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ گاڑھا ہو جاتا ہے اور (ایک مشروب) مزر ہے جسے جو سے تیار کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ چیز جو نماز سے مدہوش کردے وہ حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5215]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة