زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، لِلْأَسْوَدِ ، أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلاهما، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْأَسْوَدِ : هَلْ سَأَلْتَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ : أَخْبِرِينِي عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ، قَالَتْ: " نَهَانَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ "، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَمَا ذَكَرَتِ الْحَنْتَمَ وَالْجَرَّ، قَالَ: إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعْتُ أَأُحَدِّثُكَ مَا لَمْ أَسْمَعْ؟.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
منصور نے ابراہیم سے روایت کی، کہا: میں نے اسود سے کہا: کیا تم نے ام المؤمنین (عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) سے ان برتنوں کے بارے میں پوچھا تھا جن میں نبیذ بنانا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے عرض کی تھی: ام المؤمنین! مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کن برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا؟ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: آپ نے ہم اہل بیت کو کدو کے بنے ہوئے اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ (ابراہیم نے) کہا: میں نے (اسود سے) پوچھا: انہوں نے حنتم اور گھڑوں کا ذکر نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: میں تم کو وہی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے سنی ہے۔ کیا میں تمہیں وہ بات بیان کروں جو میں نے نہیں سنی؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5172]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة