ابْنُ أَبِي عُمَر ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَر َ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيَى بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں مبتلا کروں گا تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا۔“ ان کی حدیث کے مانند۔ اور اسی سند کے ساتھ (اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں:) ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوزرعہ کی روایت کردہ حدیث کے مطابق۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4864]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة