مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَجَّاجٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرًا يَسْأَلُ كَمْ كَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ؟، قَالَ: " كُنَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، فَبَايَعْنَاهُ، وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ فَبَايَعْنَاهُ "، غَيْرَ جَدِّ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن حاتم نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حجاج نے ابن جریج سے حدیث سنائی، کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے پوچھا گیا تھا کہ حدیبیہ کے دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا: ہم چودہ سو تھے، ہم نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ تھام رکھا تھا، وہ ببول کا درخت تھا، ہم سب نے آپ سے بیعت کی سوائے جد بن قیس انصاری کے، (اس نے آپ سے بیعت نہیں کی) وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4809]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة